ہوناور 5 / فروری (ایس او نیوز) ہوناور میں تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے سلسلے میں چل رہے تنازعے پر کاسرکوڈ ٹونکا میں احتجاجی مظاہرا کرنے والے جن ماہی گیروں کو ابھی حال ہی میں گرفتار کیا گیاتھا ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر ماہی گیری و ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کو میمورنڈم پیش کیا گیا ہے۔
میمورنڈم دینے کے لئے وزیر موصوف کے گھر پر جو وفد پہنچا تھا اس میں کھاروی سماج ٹونکا، محی الدین جمعہ مسجد اور خصر جمعہ مسجد کے ذمہ داران شامل تھے ۔ میمورنڈم سونپنے کے بعد ذمہ داران نے بتایا کہ وزیر ماہی گیری و ضلع انچارج نے میمورنڈم قبول کیا ، ان کی باتیں بہت ہی سکون اور اطمینان سے سننے کے بعد ان کے ساتھ تسلی آمیز رویہ اختیار کیا اور کہا کہ کسی بھی قسم کے خوف اور ڈر کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
وفد نے بتایا کہ منکال وئیدیا نے ان سے کہا ہے کہ بندرگاہ تعمیر کرنے والی کمپنی سے زیادہ ماہی گیروں کا مفاد ان کے لئے اہم ہے۔ چونکہ وہ خود ماہی گیر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے انہیں ماہی گیروں کی تکالیف کا پورا احساس اور تجربہ ہے۔ اس لئے وہ ماہی گیروں کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچنے کا موقع نہیں دیں گے۔ اگر اس طرح کوئی موقع آیا تو وہ خود ماہی گیروں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔
وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ گرفتار شدہ ماہی گیروں کی رہائی کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔ چند دنوں کے اندر وہ خود کاسرکوڈ ٹونکا میں آئیں گے اور وہاں کی اصل صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
اس موقع پر محی الدین جمعہ مسجد کے صدراور ہوناورپرشین بوٹ مالکان کی تنظیم کے صدر حمزہ اسماعیل پٹیل، خضرجمعہ مسجد کے صدر محمود صاب ٹونکا، ٹرال فشنگ بوٹ مالکان کی تنظیم کے نائب صدر ایم اے حسن، ٹونکا کھاروی سماج کے اراکین اور رام نگر کھاروی سماج کے اراکین موجود تھے ۔